رنگین بیان
معنی
١ - جس کے انداز بیان میں شوخی، دل کشی ہو، خوش بیان۔ "کوئی بڑا شاعر ایسا نہیں جو پہلے دہلی کے خوشنواؤں اور بعد کو لکھنو کے رنگین بیانوں سے فیض یاب نہ ہوا۔" ( ١٩٥٨ء، پردیسی کے خطوط، ٨٥ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ صفت 'رنگین' کے ساتھ عربی اسم 'بیبان' لگانے سے مرکب 'رنگین بیان' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٨٦ء کو "دیوان سخن" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جس کے انداز بیان میں شوخی، دل کشی ہو، خوش بیان۔ "کوئی بڑا شاعر ایسا نہیں جو پہلے دہلی کے خوشنواؤں اور بعد کو لکھنو کے رنگین بیانوں سے فیض یاب نہ ہوا۔" ( ١٩٥٨ء، پردیسی کے خطوط، ٨٥ )